30 نومبر 2015 - 16:28
ایک موازنہ؛ ابوبکر البغدادی اور بن لادن، دونوں کی اصل ایک

امریکہ کی دراز مدت پالیسی، آزاد ملکوں کا مقابلہ کرنااور پوری دنیا اور علاقے میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دہشت گردی کو وسیلے کے طور پر استعمال کرنا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  ٹرررسٹ[terrorist] ایک لفظ ہے کہ جس کو امریکہ نے جنم دیا، اس کی تربیت کی اور اب اس کی ہدا یت کر رہا ہے ۔

اگر چہ دہشت گرد گروہوں کی وائٹ ہاوس کے اندر موجود کنٹرول رومز سے رہنمائی ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود ان وحشی جانوروں کے ریوڑوں کو ان کے اندر رہ کر کنٹرول کرنا ضروری ہےاور اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ ان دو دہشت گردی کے حیوان صفت سرغنوں کے ناموں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی ،بن لادن اور ابو بکر البغدادی بالترتیب القاعدہ اور داعش نام کے دہشت گر دگروہوں کے سرغنہ ہیں کہ ان دو کے مقایسے کے بعد شاید مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کا جائزہ لیا جا سکے ۔

ابو بکر البغدادی اور بن لادن ایک مرموز اور دوسرا معروف

بن لادن ؛ ریاض میں پیدا ہوا اس کے گھر والوں کا آل سعود کے ساتھ گہرا رابطہ تھا سال ۱۹۷۹ میں عبد العزیز یونیورسٹی سے اس نے اقتصاد اور حکومتی امور کو چلانے کے شعبے میں تعلیم سے فراغت حاصل کی لیکن اس نے اپنی عمر کے اکثر سال پاکستان اور افغانستان میں گذارے ،اسی طرح بن لادن کا باپ کہ جو یمن کے علاقے حضر موت کا رہنے والا تھا ،شام کی بادشاہی حکومت میں اس نے خود کو جدہ کی بندر گاہ پر  حمالی کے کام سے عمارتیں اور سڑکیں بنانے والی ایک بہت بڑی کمپنی کے مالک کے عہدے تک پہنچایا بن لادن کے خاندان کو عمارت سازی کی صنعت سے ۵ ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی کہ جس میں سے اسامہ کو ۲۵ سے ۳۰ میلین ڈالر وراثت میں نصیب ہوئے ۔

اس کی سوانح حیات سے اور یہ کہ وہ کیسے انتہا پسند اسلامی گروہ میں شامل ہوا اور القاعدہ کا رہبر بن بیٹھا اسی طرح ان تصویروں سے کہ جو اس کی  اس کے خاندان کے ساتھ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ بن لادن اپنی شخصیت کی شہرت سے پورا فائدہ اٹھاتا تھا  اور ایک ایسا مہرہ تھا کہ اس کی زندگی کی رفتار کو نظر میں رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عالمی شہرت کی مالک شخصیت بننے کے لیے مناسب تھا ۔

جب کہ ابو بکر البغدادی کی شخصیت کے بارے میں ابھی بھی بہت سارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں مگر اتنا تو معلوم ہے کہ وہ بن لادن کی طرح کسی بڑے خاندان سے نہیں تھا اور بہت ہی مختلف طریقے سے اور بطور مبہم وہ داعش کا سرغنہ بنا ہے ۔

ان دو سرغنوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ ایک اپنے گروہ کے مقاصد تک پہنچنے کے لیے اپنی شہرت سے استفادہ کرتا ہے اور دوسرا پس پردہ رہ کر کام کرتا ہے اور خود کو البغدادی نام کے غیر مرئی شیخ کے طور پر پیش کرتا ہے اور اپنے سب سے قریبی دہشت گردوں کے سامنے بھی اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹاتا !

تکفیری گروہوں سے وابستہ انٹرنیٹ کے مراکز کی رپورٹ کے مطابق ابو بکر البغدادی سال ۱۹۷۱ میں عراق کے شمالی شہر سامراء میں پیدا ہوا تھا  اور اس کے پاس اسلامی مطالعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے !

ابو بکر البغدادی کے نزدیکی تکفیریوں کے بقول امریکہ کے عراق پر قبضے کے زمانے میں وہ عراق میں تھا اور امریکہ کی عراق کے خلاف جنگ سے پہلے ہی وہ انتہا پسند تھا ۔ایک عراقی عہدیدار کے بقول ابو بکر البغدادی اس دہشت گرد کا اصلی نام نہیں ہے ،اس نے اپنی اصلی شناخت کو اچھی طرح چھپا کر رکھا ہوا ہے ۔ اس عراقی عہدیدار نے اعلان کیا کہ البغدادی پیرانوئڈ  ؛شخصیتی اختلال کی بیماری میں مبتلا ہے ۔

البتہ انٹرنیٹ میں سرچ سے اس کے بارے میں مختلف اسناد اور بایو گرافیز کا پتہ چلا ہے ،اور القاعدہ سے مختلف انداز میں اس گروہ کے طریقہء کار کے پیش نظر ابوبکر البغدادی کی شخصیت پر اسرار بھی ہو جاتی ہے اور اس کی شہرت میں بھی اس سے مدد ملتی ہے ۔

الگ الگ آئیڈیالوجی ؛ ایک امریکہ کے لیے اور دوسری اسرائیل کے لیے

اس میں کوئی شک نہیں کہ ۱۱ ستمبر کے دھماکے اور بن لادن کا ان میں ملوث ہونے کا اعتراف ،امریکیوں کے لیے ایک مضبوط بہانہ بنا اور انہوں نے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد عراق پر چڑھائی کی ،اس کے لیے بن لادن ایک مہرہ تھا جس کی اصل معلوم تھی اور اس کا مقصد مغربی ایشیا میں امریکہ کے نفوذ کا راستہ ہموار کرنا تھا اور ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں اسلام کا خوف بھی پیدا کرنا تھا لیکن طریقہء کار میں شدت آج کے داعش کی مانند نہیں تھی ۔

القاعدہ نے بھی اسلامی حکومت کی تشکیل جیسے مقاصد کے ساتھ میدان میں قدم رکھا تھا ،لیکن علاقے میں امریکیوں کے آ جانے کے بعد ظاہر ہے کہ یہ موقعہ ان کو نہیں دیا گیا ،لیکن امریکیوں کی شکست اور بھاری اخراجات کے متحمل ہو نے کے بعد وائٹ ہاوس کے کنٹرول روم اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلامی عقاید کو بگاڑنے کو ترجیح دی جائے ،اس لیے کہ مسلمانوں کے قتل عام اور علاقے میں امریکیوں کی موجودگی نے مزاحمتی تحریک کو تقویت  دی  او رماحول ایسا بن گیا کہ ،صہیونی حکومت کے مفادات کھٹائی میں پڑ گئے ،ان حالات کے پیش نظر ان کو ایک نئے دہشت گرد گروہ کی ضرورت تھی جو اسلامی اعتقادات کو نشانہ بنائے اور ایک طرح سے اسرائیل کے حق میں جنگ میں کود پڑے ۔

القاعدہ اور داعش دونوں انتہا  پسند افکار کے حامل ہیں ،لیکن بن لادن اپنے گروہ کو زیادہ عالمی پیمانے  پر دیکھتا تھا اور اسلامی حکومت تک پہنچنے کے لیےوہ با معنی آئیڈیالوجی کا حامل تھا ،لیکن ہر طرح کے ذخائر کا مالک ہونے کے باوجود اس نے وحشیانہ انداز میں خون بہانے اور احمقانہ قوانین کو اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے بنیاد بنایا ،ظاہر ہے کہ ایسی عمارت کی تعمیر کے لیے ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ کے اوپر نہیں ٹکے گی ۔اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ داعش نے صرف اسلام کو بدنام کرنے اور علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے جنم لیا ہے ۔

القاعدہ کی امریکہ کے ساتھ دکھاوے کی جنگ اور داعش کی مسلمان کشی

اگر ۱۱ ستمبر کے حادثے میں بن لادن کو تین ہزار افراد کی موت کے ذمہ دار کے طور پر جانا جاتا ہے تو امریکیوں کو اس واقعے کے خون بہا کے مطالبے کے بہانے براہ راست اور بالواسطہ طور پر افغانستان ، عراق اور پاکستان میں دس لاکھ افراد سے زیادہ کا قاتل مانا جاتا ہے ،صرف پاکستان میں ۱۱ ستمبر کے حادثے  میں مارے  جانے والے ایک شخص کے مقابلے میں بغیر پائلٹ کے ہوائی جہازوں کے حملوں میں اس نے ۱۷ پاکستانیوں کو قتل کیا ہے ۔

اتنا تو یقینی ہے کہ اسامہ بن لادن امریکیوں کے مفادات کی خاطر سیاست  کے میدان میں آیا تھا اور اس ملک کے مقابلے کے دوران بھی امریکہ کو فائدہ ہی ہوا ۔

القاعدہ کو امریکہ کے مقابلے میں لانے کی وجہ سے مشرق وسطی کا دنیا میں ایک پسماندہ اور فتنہ پرور چہرہ نمایاں ہوا ،یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں چاہے جیسی بھی جنایت ہو جائے دنیا والے اس پر اتنی ہمدردی نہیں دکھاتے جتنی انہیں دکھانا چاہیے ،القاعدہ کے بر خلاف علاقے میں داعش کا وجود امریکہ کے خلاف لڑنے کی خاطر نہیں بلکہ وہ اس کے پس پردہ علاقے میں بد امنی پھیلانے میں مصروف ہے ۔

البغدادی بغیر کسی کا لحاظ کیے شام اور عراق میں مظالم ڈھا رہا ہے اور اس طرح اس نے اب تک ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے ،مثال کے طور پر صرف سال ۲۰۱۴ عیسوی میں ایک ہزار افراد عراق میں اور ۷۶ ہزار افراد شام میں مارے جا چکے ہیں ،البتہ داعش نے علاقے کے باہر بھی کچھ جوابی کاروائیاں کی ہیں جیسے پیرس کے دہشت گردانہ حملے کہ وہ بھی ۱۱ ستمبر کی طرح مکمل طور پر مبہم اور  سوالیہ نشان ہیں ۔

آمدنی کا ذریعہ ؛ داعش زیادہ سرمایہ دار ہے یا القاعدہ ؟

اسامہ بن لادن کی دولت کا اندازہ لگانا چونکہ اس کے ذرائع آمدنی مبہم اور تاریکی میں ہیں مشکل ہے  ۱۱ ستمبر کے حملوں سے پہلے سال ۲۰۰۱ میں اسامہ بن لادن کے مارے جانے تک ،تخمینا اس کی آمدنی ۳۰ سے ۳۰۰ میلیون ڈالر کے درمیان اتار چڑھاو میں تھی ۔

صرف ایک چیز جو اطمئنان سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی دولت کی اصلی بنیاد اس کے باپ کی میراث پر تھی اسی طرح بن لاد ن کو دنیا کے مختلف علاقوں کے  مالداروں کی طرف سےخیرات میں بھی بہت دولت ملی تھی یہ جانے بغیر کہ ان کی دی ہوئی امداد دہشت گردی میں خرچ ہو رہی ہے ۔

ایک سیاسی رپورٹ کے مطابق جو سال ۲۰۰۹ میں  ویکی لیکس کی طرف سے منتشر ہوئی تھی امریکیوں کو سعودی عرب قطر اور کویت میں بعض مخیر اداروں پر شک ہوا تھا کہ وہ دہشت گردی کو بے انتہا مالی امداد فراہم کر رہے ہیں ۔

اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ مجلل گھر کہ جس میں بن لادن نے اپنی زندگی کے آخری ایام سپری کیے تھے اس کی قیمت دس لاکھ ڈالر تھی ۔

یہ ایسی صورت میں ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش مختلف ہتھکنڈوں جیسے چوری ، ٹیکس کی وصولی ، تیل کی فروخت ، انسانوں کے اغوا اور آثار قدیمہ کی فروخت کے ذریعے لاکھوں ڈالر کما رہا ہے ۔

دوسری طرف اس دہشت گرد گروہ کو تیل کی فروخت سے بھاری آمدنی ہو جاتی ہے ۔مغرب کی جاسوسی ایجینسیوں نے اعلان کیا ہے کہ داعش روزانہ چالیس ہزار بیرل تیل نکالتا ہے کہ جس سے اس دہشت گرد گروہ کو دس لاکھ پونڈ کی آمدنی ہوتی ہے ۔ایک آسان سے اندازے سے پتہ چلتا ہے کہ داعش ایک سال میں تیل کی فروخت سے ۳۲۰ میلیون پونڈ حاصل کر لیتا ہے ۔

امریکی روز نامے نیو یارک ٹائمز نے راونڈ نام کے ادارے کے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے لکھا ہے : ۲۰۱۴ میں جب داعش نے موصل پر قبضہ کیا ہے تو اس کی دولت اس وقت ۸۷۵ میلین ڈالر تھی ۔لیکن اس گروہ کی آمدنی کے اصلی ذرائع گذشتہ سال درج ذیل نوعیت کے تھے ؛ عراق میں خراج اور ٹیکس کی وصولی سے ۶۰۰ میلین ڈالر ،عراق کے سرکاری بینکوں سے چوری کے ذریعے ۵۰۰ میلین ڈالر ،تیل کی فروخت کے ذریعے ۱۰۰ میلین ڈالر ، اور اغوا کیے گئے افراد کی آزادی کے بدلے میں ۲۰ میلین ڈالر ۔

ابوبکر البغدادی اور بن لادن کی اصلیت ایک

امریک کی دراز مدت پالیسی ، آزاد ملکوں کا مقابلہ کرنااور پوری دنیا اور علاقے میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دہشت گردی کو وسیلے کے طور پر استعمال کرنا ہے ۔امریکیوں نے پچھلے ۳۵ سال میں ہمیشہ طالبان ، القاعدہ، داعش اور النصرہ محاذ سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استفادہ کیا ہے ۔لہذا دہشت گردی نام کی چیز کے سلسلے میں امریکہ کی پالیسی دوغلی ہے ۔

مجموعی طور پر آج امریکہ کی دہشت گرد پروری کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے ،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان گروہوں کی سرکردگی کے لیے مہروں کا انتخاب آسان کام نہیں تھا ،اور یہ دو گروہ چاہے جتنے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں امریکہ ان کے لیے ایک ماں کی طرح ہے اور یہ اس کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتے رہیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲